:
Breaking News

India Kuwait Defence: ہندوستان-کویت مشترکہ دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس، فوجی تربیت اور دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | ہندوستان اور کویت کے درمیان مشترکہ دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس نئی دہلی میں ہوا۔ دونوں ممالک نے فوجی تربیت، مشترکہ مشق، فوجی طب، دفاعی صنعت اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

نئی دہلی، 28 اگست۔ ہندوستان اور کویت نے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان قائم مشترکہ دفاعی کمیٹی یعنی جے ڈی سی کا پہلا اجلاس جمعہ کو نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں فوجی تربیت، مشترکہ فوجی مشقیں، فوجی طب، اسٹاف سطح کی بات چیت، دفاعی صنعت اور تحقیق و ترقی سمیت کئی اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

ہندوستانی وفد کی قیادت وزارت دفاع کے جوائنٹ سکریٹری امیتابھ پرساد نے کی، جبکہ کویتی وفد کی قیادت بریگیڈیئر جنرل رائد السکران نے کی۔ کویت کی جانب سے پانچ رکنی وفد اجلاس میں شریک ہوا۔

تینوں افواج کے نمائندے اجلاس میں شریک

ہندوستانی وفد میں بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے نمائندوں کے علاوہ دفاعی پیداوار محکمہ، دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم یعنی ڈی آر ڈی او، مسلح افواج کی طبی خدمات اور وزارت خارجہ کے نمائندے بھی شامل تھے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک دفاعی تعاون کو صرف فوجی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے دفاعی پیداوار، طبی خدمات، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی جیسے شعبوں تک بھی وسعت دینا چاہتے ہیں۔

فوجی تربیت اور مشترکہ مشقوں پر زور

اجلاس میں فوجی تربیت اور مشترکہ فوجی مشقوں کو باہمی دفاعی تعاون کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔ مشترکہ مشقوں کے ذریعے دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کی عملی حکمت عملی، تجربات اور طریقۂ کار کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

اس کے ساتھ اسٹاف سطح کی بات چیت کو بھی اہمیت دی گئی۔ باقاعدہ رابطے کے ذریعے دونوں ممالک کے دفاعی حکام کے درمیان بہتر تال میل اور باہمی سمجھ پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

فوجی طب کے شعبے میں بھی تعاون

دونوں ممالک نے فوجی طب کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ہندوستانی مسلح افواج کی طبی خدمات کے نمائندوں کی شرکت سے اس شعبے میں تجربات اور مہارت کے تبادلے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

طبی تربیت، فوجی اسپتالوں اور صحت سے متعلق خدمات میں تجربات کے تبادلے سے دونوں ممالک کی فوجی طبی سہولیات کو مزید بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

دفاعی صنعت اور تحقیق پر بھی بات چیت

اجلاس میں دفاعی صنعت اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ہندوستان مقامی دفاعی پیداوار اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کی تیاری پر مسلسل توجہ دے رہا ہے۔

ایسے میں کویت کے ساتھ دفاعی صنعت اور تکنیکی شعبے میں تعاون مستقبل میں نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تجربات کا تبادلہ بھی دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ کویت سے جڑا معاہدہ

مشترکہ دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہندوستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق معاہدے کو عملی شکل دینے کی سمت میں اہم پیش رفت ہے۔

اس معاہدے پر وزیر اعظم نریندر مودی کے دسمبر 2024 میں کویت کے دورے کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔ اب جے ڈی سی کے پہلے اجلاس کے ذریعے اس معاہدے کے تحت طے کیے گئے تعاون کو آگے بڑھانے کا باقاعدہ عمل شروع ہوا ہے۔

ہندوستان-کویت تعلقات میں دفاعی شعبے کی اہمیت

ہندوستان اور کویت کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور ہندوستانی برادری سمیت مختلف شعبوں میں مضبوط رہے ہیں۔ اب دفاعی تعاون بھی دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا ایک اہم حصہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

مشترکہ دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں فوجی تربیت سے لے کر دفاعی تحقیق تک کئی اہم شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس سے آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کی افواج اور دفاعی اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون میں مزید اضافہ ہونے کی توقع ہے۔

مجموعی طور پر جے ڈی سی کا پہلا اجلاس ہندوستان اور کویت کے دفاعی تعلقات کو ایک منظم اور طویل مدتی بنیاد فراہم کرنے کی سمت میں ایک اہم شروعات ہے۔

 ہندوستان اور کویت کے دفاعی تعلقات میں نئی پیش رفت

ہندوستان اور کویت کے درمیان مشترکہ دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں صرف فوجی مشق یا تربیت پر توجہ نہیں دی گئی بلکہ طبی خدمات، دفاعی صنعت اور تحقیق و ترقی جیسے شعبوں کو بھی تعاون کے دائرے میں شامل کیا گیا۔

ہندوستان کے لیے خلیجی خطہ اسٹریٹجک اعتبار سے اہم ہے اور کویت اس خطے میں ایک اہم شراکت دار ہے۔ دوسری جانب کویت کے لیے ہندوستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت، ٹیکنالوجی اور مقامی دفاعی پیداوار کے تجربات تعاون کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

اب اس اجلاس کی اصل اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے نکات کو کتنی تیزی سے عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اگر طے شدہ تعاون کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا گیا تو ہندوستان اور کویت کے دفاعی تعلقات آنے والے برسوں میں مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *